عیسیٰؑ: اللہ کے نبی عيسى في الإسلام

8.88 MB 54 1 Files
albyan
or download free
[free_download_btn]

Description

مسلمان عیسیٰؑ سے محبت کرتے ہیں

عیسیٰؑ ایک ایسی شخصیت ہیں جن سے دنیا بھر میں اربوں لوگ محبت اور عقیدت رکھتے ہیں، لیکن اس عظیم ہستی کے مقام کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ مسلمان اور عیسائی دونوں ہی عیسیٰؑ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، لیکن ان کے بارے میں بہت مختلف نظریات رکھتے ہیں۔

یہ کتابچہ ان سوالات کو واضح کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے:

کیا عیسیٰؑ خدا تھے یا انہیں خدا نے بھیجا تھا؟

حقیقی تاریخی عیسیٰؑ کون تھے؟

عیسیٰؑ بطور خدا؟

کچھ عیسائی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ "عیسیٰؑ خدا ہیں" یا تثلیث (Trinity) کا حصہ ہیں – یعنی وہ زمین پر خدا کا ظہور ہیں اور خدا نے انسانی شکل اختیار کر لی۔ تاہم، بائبل کے مطابق، عیسیٰؑ پیدا ہوئے، کھاتے تھے، سوتے تھے، دعا کرتے تھے اور ان کے علم میں بھی حدود تھیں – یہ تمام صفات خدا کے شایانِ شان نہیں۔ خدا کی صفات کامل ہوتی ہیں، جبکہ انسان اس کے برعکس ہے۔ کوئی چیز ایک ہی وقت میں دو مکمل متضاد صفات کیسے رکھ سکتی ہے؟

اسلام سکھاتا ہے کہ خدا ہمیشہ کامل ہے۔ یہ ماننا کہ خدا انسان بن گیا، دراصل یہ کہنا ہے کہ خدا کسی وقت پر ناقص تھا۔ ایک عیسائی کو خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ کیا ایک ایسا خدا، جو کبھی ایک کمزور اور بے بس بچہ تھا، جو کھانے، پانی اور نیند کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا تھا، وہی قادرِ مطلق خدا ہو سکتا ہے جس کا ذکر پرانے عہد نامے (Old Testament) میں آیا ہے؟ یقیناً نہیں۔

کچھ لوگ یہ سوال کر سکتے ہیں کہ "اگر خدا کچھ بھی کر سکتا ہے، تو وہ انسان کیوں نہیں بن سکتا؟"

تعریف کے مطابق، خدا وہ کام نہیں کرتا جو اس کی الوہیت کے خلاف ہو۔ خدا ایسا کچھ نہیں کرتا جو اسے کچھ اور بنا دے۔ اگر خدا انسان بن جائے اور انسانی صفات اپنا لے، تو وہ لازمی طور پر خدا نہیں رہے گا۔

بائبل کی کچھ مبہم آیات کو غلط طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ عیسیٰؑ کو کسی نہ کسی طرح الٰہی ثابت کیا جا سکے، لیکن اگر ہم واضح اور براہِ راست آیات کو دیکھیں، تو بار بار یہی نظر آتا ہے کہ عیسیٰؑ کو ایک غیر معمولی انسان کے طور پر پیش کیا گیا ہے، نہ کہ خدا کے طور پر۔ بائبل میں کئی ایسی آیات ہیں جن میں عیسیٰؑ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ خدا ان سے الگ ایک ہستی ہے۔ مثال کے طور پر:

"عیسیٰؑ نے اپنا چہرہ زمین پر رکھا اور دعا کی۔" [متی 26:39]
اگر عیسیٰؑ خدا تھے، تو کیا خدا اپنا چہرہ زمین پر رکھ کر دعا کرے گا؟ اور وہ کس سے دعا کر رہے تھے؟

بائبل عیسیٰؑ کو نبی کہتی ہے۔ [متی 21:10-11]

تو عیسیٰؑ خدا کیسے ہو سکتے ہیں اور بیک وقت خدا کے نبی بھی؟

عیسیٰؑ نے کہا، "میں باپ کے پاس جا رہا ہوں، کیونکہ باپ مجھ سے بڑا ہے۔" [یوحنا 14:28]

اگر عیسیٰؑ خدا تھے، تو کوئی ان سے بڑا کیسے ہو سکتا ہے؟

عیسیٰؑ نے کہا، "میں اپنے باپ اور تمہارے باپ، اپنے خدا اور تمہارے خدا کے پاس جا رہا ہوں۔" [یوحنا 20:17]

اگر عیسیٰؑ خود خدا تھے، تو وہ کیوں کہہ رہے ہیں، "میرے خدا اور تمہارے خدا"؟ اور وہ کس کے پاس جا رہے تھے؟

اگر عیسیٰؑ خدا ہوتے، تو وہ لوگوں سے صاف طور پر کہتے کہ وہ انہیں پوجیں، لیکن بائبل میں اس کے برعکس ملتا ہے:
"اور وہ بے فائدہ میری عبادت کرتے ہیں۔" [متی 15:9]

یہ تمام دلائل ثابت کرتے ہیں کہ عیسیٰؑ ایک نبی تھے، نہ کہ خدا۔

"خدا کا بیٹا"

کچھ عیسائی دعویٰ کرتے ہیں کہ عیسیٰؑ خدا کے بیٹے ہیں۔ لیکن اس کا اصل مطلب کیا ہے؟ یقیناً، خدا اس سے پاک ہے کہ اس کا کوئی جسمانی یا حقیقی بیٹا ہو۔ انسانوں کے بچے انسان ہوتے ہیں، بلیوں کے بچے بلی کے بچے ہوتے ہیں۔ تو پھر خدا کے لیے بیٹا ہونے کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟

اگر ہم بائبل کی قدیم زبانوں کو دیکھیں، تو "خدا کا بیٹا" درحقیقت ایک رُوحانی اور علامتی اصطلاح ہے، جو ایک نیک اور صالح شخص کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہ اصطلاح صرف عیسیٰؑ کے لیے مخصوص نہیں، بلکہ داؤدؑ، سلیمانؑ اور بنی اسرائیل کے لیے بھی استعمال کی گئی ہے:

"...اسرائیل میرا پہلوٹھا بیٹا ہے۔" (خروج 4:22)

حقیقت میں، بائبل میں جو بھی نیک راستے پر چلتا ہے، اسے "خدا کا بیٹا" کہا گیا ہے:

"جو کوئی خدا کی روح کی رہنمائی میں چلتا ہے، وہی خدا کا بیٹا اور بیٹی ہے۔" (رومیوں 8:14)

💬 "اللہ کے شایانِ شان نہیں کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے۔ وہ ہر عیب سے پاک اور کامل ہے! جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے، تو صرف کہتا ہے، 'ہو جا' اور وہ ہو جاتا ہے۔" (القرآن 19:35)

"باپ اور رب"
اسی طرح، جب بائبل میں خدا کے لیے "باپ" کا لفظ استعمال ہوتا ہے، تو اسے حقیقی اور جسمانی مطلب میں نہیں لینا چاہیے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ خدا سب کا خالق، پرورش کرنے والا اور سب پر حاکم ہے۔

بائبل میں یہ علامتی مطلب واضح طور پر نظر آتا ہے:

"ایک ہی خدا اور سب کا باپ ہے۔" (افسیوں 4:6)

اسی طرح، کبھی کبھار عیسیٰؑ کو ان کے شاگردوں نے "رب" کہا۔ بائبل کی اصل زبان میں یہ لفظ خدا کے لیے بھی استعمال ہوتا تھا اور عزت دار شخص کے لیے بھی۔ مثال کے طور پر:

یونانی عہد نامہ میں

"kyrios"

کا مطلب "رب" بھی ہے اور زمین کے مالک کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ (متی 20:8)

یہی لفظ ایک ایسے مالک کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جس نے اپنے نافرمان نوکر کو سزا دی۔ (لوقا 20:42-47)

یہاں تک کہ بائبل کے دوسرے حصوں میں، عیسیٰؑ کو "خدا کا خادم" کہا گیا ہے:

"ہمارے آباؤ اجداد کے خدا نے اپنے خادم عیسیٰ کو جلال بخشا۔" (اعمال 3:13)

یہ واضح کرتا ہے کہ جب عیسیٰؑ کو "رب" کہا گیا، تو یہ احترام کا لقب تھا، نہ کہ خدائی کا کوئی ثبوت۔

خدا کی فطرت اور عیسیٰؑ کی حقیقت کو پیچیدہ اور مشکل طریقوں سے سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے، جو اکثر الجھن یا عدم اطمینان پیدا کرتی ہے۔ لیکن اہم سوال یہ ہے:

💡 اگر خدا چاہتا کہ ہم اسے پہچانیں، تو کیا وہ ہمارے لیے ایسا عقیدہ بناتا جو سمجھنے میں مشکل ہو؟

💡 کیا ان پیچیدہ تصورات کا موازنہ اسلام میں خدا کے سادہ، واضح اور خالص تصور سے کیا جا سکتا ہے؟

عیسیٰؑ: ایک نبی

یہودیت میں، عیسیٰؑ (علیہ السلام) کو مسیحا (Messiah) ماننے سے انکار کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، عیسائیت میں انہیں خدا یا خدا کے بیٹے کے طور پر پوجا جاتا ہے۔ اسلام اس معاملے میں درمیانی راستہ اختیار کرتا ہے اور عیسیٰؑ کو اللہ کے ایک معزز نبی اور رسول کے طور پر تسلیم کرتا ہے، ساتھ ہی انہیں مسیحا بھی مانتا ہے، لیکن مسلمان ان کی عبادت نہیں کرتے کیونکہ عبادت صرف اللہ کے لیے ہے، جس نے عیسیٰؑ اور ہر چیز کو پیدا کیا۔

"[عیسیٰؑ] نے کہا، ’بے شک میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔‘" (القرآن 19:30)

معجزاتی پیدائش
قرآن کے مطابق، فرشتہ جبرائیلؑ حضرت مریمؑ کے پاس ایک انسان کی شکل میں بھیجے گئے اور انہیں ایک معجزاتی بیٹے کی بشارت دی، جو بغیر کسی باپ کے پیدا ہونے والے تھے۔

"فرشتے نے کہا، ’میں تو بس تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں، تاکہ تجھے ایک پاکیزہ بیٹے کی خوشخبری دوں۔‘

مریمؑ نے کہا، ’میرے ہاں بیٹا کیسے ہو سکتا ہے، جب کہ مجھے کسی مرد نے چھوا تک نہیں اور نہ ہی میں بدکار ہوں؟فرشتے نے کہا، ’ایسا ہی ہوگا۔ تیرا رب فرماتا ہے، “یہ میرے لیے آسان ہے اور ہم اسے لوگوں کے لیے نشانی اور اپنی رحمت بنائیں گے، اور یہ کام طے شدہ ہے۔”'" (القرآن 19:19-21)‘

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عیسیٰؑ کی معجزاتی پیدائش ان کی الوہیت (Divinity) کا ثبوت ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ عیسیٰؑ پہلے انسان نہیں تھے جو بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ ان سے پہلے آدمؑ کو بھی اللہ نے بغیر ماں اور باپ کے پیدا کیا تھا۔

"اللہ کے نزدیک عیسیٰؑ کی مثال آدمؑ کی سی ہے، جسے اللہ نے مٹی سے پیدا کیا، پھر کہا ’ہو جا‘ اور وہ ہو گیا۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے سچی بات ہے، لہٰذا شک کرنے والوں میں نہ ہو۔" (القرآن 3:59-60)

اگر باپ کے بغیر پیدا ہونا الوہیت کی نشانی ہے، تو آدمؑ تو زیادہ حق رکھتے ہیں کہ انہیں خدا مانا جائے، کیونکہ وہ بغیر ماں اور باپ کے پیدا ہوئے۔

عیسیٰؑ کے معجزات
عیسیٰؑ بغیر باپ کے معجزاتی طور پر پیدا ہوئے اور انہوں نے اللہ کے حکم اور اجازت سے عظیم معجزات دکھائے۔

انہوں نے گہوارے میں بطور بچہ کلام کیا تاکہ اپنی ماں کو ان لوگوں کے الزامات سے بچا سکیں جو ان پر تہمت لگا رہے تھے۔ قرآن یہ بھی بیان کرتا ہے کہ عیسیٰؑ نے مردوں کو زندہ کیا، کوڑھیوں کو شفا دی اور نابینا کو بینائی عطا کی – یہ سب اللہ کے حکم سے ہوا۔

یہ حقیقت کہ عیسیٰؑ نے معجزے دکھائے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اللہ کے عاجز بندے سے بڑھ کر کچھ تھے۔ درحقیقت، بہت سے نبیوں نے معجزے کیے، جن میں نوحؑ، موسیٰؑ اور محمدﷺ شامل ہیں، اور یہ تمام معجزے اللہ کی اجازت سے ہی ظاہر ہوئے تاکہ رسولوں کی سچائی ثابت ہو۔

عیسیٰؑ کا پیغام

پرانے عہد نامے کے انبیاء جیسے ابراہیمؑ، نوحؑ اور یونسؑ نے کبھی یہ تعلیم نہیں دی کہ خدا تثلیث کا حصہ ہے، اور نہ ہی انہوں نے عیسیٰؑ کو اپنا نجات دہندہ مانا۔

ان کا پیغام سادہ تھا: خدا ایک ہے اور صرف وہی عبادت کے لائق ہے۔ یہ منطقی نہیں کہ خدا ہزاروں سال تک مسلسل ایک ہی بنیادی پیغام کے ساتھ نبی بھیجتا رہے اور پھر اچانک اسے بدل کر تثلیث کا تصور پیش کرے اور نجات کے لیے عیسیٰؑ کی الوہیت پر ایمان کو لازمی قرار دے۔

حقیقت یہ ہے کہ عیسیٰؑ نے وہی پیغام دیا جو پرانے عہد نامے کے تمام انبیاء نے دیا تھا۔ بائبل میں ایک آیت ہے جو اس بنیادی پیغام کو واضح کرتی ہے۔ ایک شخص نے عیسیٰؑ سے پوچھا: "سب سے پہلا حکم کون سا ہے؟"عیسیٰؑ نے جواب دیا: "سب سے پہلا حکم یہ ہے، سنو، اے اسرائیل! ہمارا رب، ایک ہی رب ہے۔" (مرقس 12:28-29)

پس، عیسیٰؑ کے مطابق سب سے بڑا حکم یہی ہے کہ خدا ایک ہے۔ اگر عیسیٰؑ خدا ہوتے، تو وہ کہتے، "میں خدا ہوں، میری عبادت کرو" لیکن اس کے بجائے، انہوں نے پرانے عہد نامے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ خدا ایک ہے۔

یہی پیغام اسلام میں بھی موجود ہے کہ عیسیٰؑ بنی اسرائیل کے پاس پچھلے انبیاء کے پیغام کی تصدیق کے لیے بھیجے گئے تھے – یعنی ایک سچے خدا پر ایمان لانے کے لیے۔

"اور جب عیسیٰؑ واضح نشانیاں لے کر آئے، تو انہوں نے کہا، ’بے شک، اللہ ہی میرا رب ہے اور تمہارا رب بھی، پس اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔‘" (القرآن 43:63-64)

اللہ کے معزز اور فرماں بردار رسول کی حیثیت سے عیسیٰؑ نے اللہ کے احکامات کو مکمل اطاعت کے ساتھ قبول کیا۔ اسی لیے، وہ ایک "مسلم" تھے – یعنی جو بھی اللہ کے احکام کو تسلیم کرتا ہے، وہ مسلم کہلاتا ہے۔

اسلام میں عیسیٰؑ کا مقام
عیسیٰؑ اللہ کے ایک معزز نبی تھے، جنہیں صرف اللہ کی عبادت کی دعوت دینے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

یہ حقیقت بائبل میں بھی موجود ہے اور قرآن اس کی تصدیق کرتا ہے۔ اسلام میں عیسیٰؑ کے بارے میں عقیدہ ان کی اصل حیثیت کو واضح کرتا ہے، جبکہ خدا کی عظمت، وحدانیت اور کمال کو برقرار رکھتا ہے۔

ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ مزید تحقیق کریں اور اسلام کو جانیں۔
اسلام کوئی نیا مذہب نہیں ہے، بلکہ وہی پیغام ہے جو نوحؑ، ابراہیمؑ، موسیٰؑ، عیسیٰؑ اور محمدﷺ نے دیا – کہ اللہ کی مکمل فرماں برداری اختیار کی جائے۔

اسلام کا مطلب "اللہ کے تابع ہونا" ہے، اور یہ ایک فطری اور مکمل طرزِ زندگی ہے، جو انسان کو اللہ اور اس کی مخلوق کے ساتھ صحیح تعلق استوار کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

اسلام سکھاتا ہے کہ اللہ سب سے زیادہ عادل اور مہربان ہے، اور وہ گناہ بخشنے کے لیے کسی کو قربان کرنے کا محتاج نہیں، اور نہ ہی کوئی "گناہ میں پیدا ہوتا ہے"۔ اللہ ہر انسان کا فیصلہ اس کے اپنے اعمال کے مطابق کرتا ہے، اور ہر شخص اپنی ذمہ داری کا خود جواب دہ ہے۔

اسلام ہمیں اللہ کے تمام انبیاء سے محبت اور ان کا احترام کرنے کی تعلیم دیتا ہے، لیکن محبت اور احترام کا مطلب عبادت نہیں ہوتا، کیونکہ عبادت صرف اللہ کا حق ہے۔

عیسیٰؑ کو اللہ کا نبی ماننا اور اسلام قبول کرنا یہ نہیں کہ کوئی اپنی عیسائی شناخت کھو دے، بلکہ یہ اصل اور خالص تعلیمات کی طرف واپس آنا ہے، جو خود عیسیٰؑ نے دی تھیں۔

Categories & Tags

Similar Downloads

No related download found!