Description
نوحؑ، ابراہیمؑ، موسیٰؑ، عیسیٰؑ، محمدﷺ
علیہم السلام
اللہ، جو کائنات اور اس میں موجود ہر چیز کا خالق ہے، نے انسانوں کو ایک عظیم مقصد کے لیے پیدا کیا: صرف اسی کی عبادت کرنا اور اس کی تعلیمات اور ہدایت کے مطابق نیک زندگی گزارنا۔ تاہم، انسان اس مقصد کو تب تک پورا نہیں کر سکتا جب تک کہ اللہ کی طرف سے واضح رہنمائی نہ ملے۔
اللہ، جو سب سے زیادہ مہربان اور عادل ہے، نے ہمیں زمین پر بے مقصد نہیں چھوڑا۔ ہمارے مقصد کو واضح کرنے کے لیے، اللہ نے کچھ خاص افراد کو منتخب کیا تاکہ وہ انسانیت تک اس کا پیغام پہنچائیں اور اس کا عملی نمونہ پیش کریں۔ یہ افراد "نبی" کہلاتے ہیں، جن میں آدمؑ، نوحؑ، ابراہیمؑ، موسیٰؑ، عیسیٰؑ اور محمدﷺ شامل ہیں – ان سب پر سلامتی ہو۔
انبیا کی خصوصیات
تمام انبیاء میں کچھ مشترک صفات ہوتی ہیں جو انہیں عام انسانوں سے منفرد بناتی ہیں۔
1. انبیاء پر وحی نازل ہوتی ہے
عام انسان اور نبی کے درمیان سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ نبی پر اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوتی ہے۔
2. انبیاء بلند اخلاق کے حامل ہوتے ہیں
انبیاء نے کبھی ذاتی فائدے کے لیے دولت، اعلیٰ مقام یا طاقت کی خواہش نہیں کی، بلکہ وہ صرف اللہ کی رضا کے طلب گار تھے۔
انبیاء اپنے لوگوں میں کردار اور راستبازی میں سب سے بہترین مثال تھے۔ وہ اللہ کے فرمانبردار، بہترین اخلاق کے حامل اور ہمیشہ سچے اور دیانت دار ہوتے تھے۔ اسی وجہ سے، مسلمان اس بات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں کہ انبیاء نے بڑے گناہ کیے، جیسا کہ کچھ دیگر مذاہب کی کتابوں میں ذکر ملتا ہے۔
3. انبیاء معجزات انجام دیتے ہیں
انبیا معجزات انجام دیتے ہیں، جو ان کی نبوت کی تصدیق کے لیے اللہ کی طرف سے دیے گئے ہوتے ہیں۔ بہت سے انبیا نے معجزے دکھائے، اور عام طور پر یہ معجزے ان شعبوں میں ہوتے تھے جن میں ان کے لوگ ماہر ہوتے تھے۔ حضرت موسیٰؑ کے زمانے میں لوگ جادوگری میں ماہر تھے، چنانچہ موسیٰؑ نے ایسے معجزات دکھائے جو جادوگر بھی نہ کر سکے۔ حضرت عیسیٰؑ کے زمانے میں طب کا عروج تھا، اس لیے عیسیٰؑ نے اللہ کے حکم سے ایسے مریضوں کو شفا دی جو کسی سے ممکن نہ تھی۔ حضرت محمدﷺ کے زمانے میں عرب شعر و ادب میں کمال رکھتے تھے، چنانچہ محمدﷺ پر ایسا فصیح و بلیغ قرآن نازل ہوا، جس کا کوئی شاعر مقابلہ نہ کر سکا۔
اس کے علاوہ، بہت سے انبیا نے سچ ثابت ہونے والی پیشین گوئیاں کیں۔ تمام معجزات اللہ کے حکم اور مدد سے ظاہر ہوئے، جو اس بات کا ثبوت تھے کہ انبیا انسان تھے، خدا نہیں۔
انبیا الہٰی نہیں ہوتے
اگرچہ انبیا کو اللہ تعالیٰ نے منتخب فرمایا، لیکن وہ کسی بھی طرح الہٰی نہیں ہوتے اور نہ ہی انہیں عبادت کے لائق سمجھنا چاہیے۔ نبی محمدﷺ کو حکم دیا گیا:
"میں تو تم جیسا ہی ایک انسان ہوں، مجھ پر وحی نازل کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود بس ایک ہی معبود ہے۔" (القرآن 18:110)
یہ بات بائبل کے پرانے اور نئے عہد نامے سے بھی واضح ہے کہ انبیا الہٰی نہیں تھے، بلکہ وہ ایک سچے خدا کی عبادت کرتے اور اس کے حضور سجدہ ریز ہوتے تھے۔
"اور وہ (عیسیٰؑ) کچھ آگے بڑھے اور منہ کے بل گر کر دعا کی…" (متی 26:39)
"اور وہ (موسیٰؑ اور ہارونؑ) اپنے چہروں کے بل گر گئے…" (گنتی 16:22)
"اور ابرام (ابراہیمؑ) اپنے چہرے کے بل گر گئے اور خدا ان سے ہمکلام ہوا…" (پیدائش 17:3)
انبیا میں ضروری خوبیاں ہوتی ہیں
اللہ نے تمام انبیا کو ایسی خصوصیات عطا فرمائیں جو انہیں اپنی نبوت کا فریضہ کامیابی سے ادا کرنے میں مدد دیتی تھیں، جیسے استقلال، بہادری، قیادت، صبر اور حکمت۔
کچھ مثالیں درج ذیل ہیں:
نوحؑ کا استقلال، جنہوں نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلانے میں ثابت قدمی دکھائی، حالانکہ بہت کم لوگوں نے ان کی دعوت قبول کی۔
ابراہیمؑ کی بہادری، جنہوں نے اپنی کم عمری میں اکیلے پوری قوم کا سامنا کیا اور ان کے باطل عقائد کو للکارا۔
موسیٰؑ کی قیادت، جنہوں نے اپنی قوم کو وقت کے سب سے ظالم بادشاہ – فرعون – کے چنگل سے آزاد کرایا۔
عیسیٰؑ کا صبر، جنہوں نے اپنی قوم کی جانب سے دی جانے والی سختیوں اور اذیتوں کو برداشت کیا۔
محمدﷺ کی حکمت، جنہوں نے عرب کے کئی متحارب قبائل، جو صدیوں سے ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار تھے، کو ایک پرامن امت میں متحد کر دیا۔
انبیا کا پیغام
"اور یقیناً ہم نے ہر قوم میں ایک رسول بھیجا (یہ کہ): 'اللہ کی عبادت کرو اور باطل معبودوں سے بچو۔'" (القرآن 16:36)
چونکہ تمام انبیا ایک ہی سچے خدا کی طرف سے بھیجے گئے تھے، اس لیے ان سب کا پیغام اور مشن ایک ہی تھا – اپنی قوم کو زندگی کے مقصد کی یاد دہانی کرانا اور اس کی تعلیم دینا۔
ان کا پیغام یہ تھا کہ:
خدا کے حقیقی تصور کو واضح کریں اور غلط عقائد کو رد کریں
زندگی کے اصل مقصد کی تعلیم دیں
یہ عملی طور پر دکھائیں کہ اللہ کی عبادت کیسے کرنی چاہیے
اللہ کی بیان کردہ نیکی اور برائی کی وضاحت کریں اور لوگوں کو اس کے مطابق نصیحت کریں
اطاعت کے انعام (جنت) اور نافرمانی کی سزا (جہنم) کے بارے میں آگاہ کریں
● عام طور پر غلط سمجھے جانے والے موضوعات جیسے روح، فرشتے، جن، آخرت اور تقدیر کی وضاحت کریں
"اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان میں تاکہ وہ ان کے لیے (پیغام) واضح کر سکے…" (القرآن 14:4)
تمام انبیا کا مرکزی مقصد اللہ کے تصور کو واضح کرنا تھا: کہ اس کا کوئی شریک یا ہمسر نہیں، اور تمام عبادت صرف اسی کی طرف ہونی چاہیے۔ قرآن میں انبیا کی طرف سے اس پیغام کو پہنچانے کی کئی مثالیں موجود ہیں:
نوحؑ نے کہا [القرآن 7:59]:
"اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو! اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔"
ابراہیمؑ نے کہا [القرآن 21:66]:
"کیا تم اللہ کے سوا ان چیزوں کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہیں نفع پہنچا سکتی ہیں اور نہ نقصان؟"
موسیٰؑ نے کہا [القرآن 7:140]:
"کیا میں تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی اور معبود تلاش کروں، حالانکہ اس نے تمہیں تمام مخلوقات پر فضیلت دی ہے؟"
عیسیٰؑ نے کہا [القرآن 3:51]:
"بے شک اللہ ہی میرا رب ہے اور تمہارا رب بھی۔ پس اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے۔"
محمدﷺ نے کہا [القرآن 18:110]:
"مجھ پر وحی کی گئی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔ پس جو کوئی اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہے تو اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔"
یہ پیغام نسل در نسل مستقل رہا اور اللہ پر صحیح ایمان رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
ہر قوم کے لیے ایک نبی بھیجا گیا
"اور ہر قوم کے لیے ایک رسول ہے۔" (القرآن 10:47)
مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ نے وقتاً فوقتاً ہزاروں انبیاء بھیجے، کم از کم ایک ہر قوم کے لیے، تاکہ وہ انسانیت کے لیے رحمت اور ہدایت کا ذریعہ بنیں۔ کچھ حالات میں، انبیاء کا پیغام کھو گیا، بگاڑ دیا گیا، بھلا دیا گیا، نظرانداز کر دیا گیا، یا قوم نے اس کا انکار کر دیا۔ یہی وہ وجوہات تھیں جن کی بنا پر ایک نیا نبی بھیجا جاتا تاکہ اللہ کا پیغام دوبارہ پہنچایا جائے۔
مسلمان ہر اس نبی پر ایمان رکھتے اور ان کا احترام کرتے ہیں جنہیں اللہ نے بھیجا۔ مسلمان ان تمام الہامی کتابوں پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو انبیاء پر نازل ہوئیں، اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ ان میں سے کوئی بھی کتاب آج اپنی اصل شکل میں موجود نہیں، سوائے قرآن کے۔
"وہی (اللہ) ہے جس نے آپ (محمدﷺ) پر حق کے ساتھ کتاب (قرآن) نازل کی، جو اس سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے۔ اور اس نے تورات اور انجیل بھی نازل کی۔" (القرآن 3:3)
ہر کسی کو براہِ راست وحی کیوں نہیں ملتی؟
اللہ نے زندگی کو پیدا کیا اور انسانوں کو آزاد ارادہ اور عقل عطا کی، تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کون اللہ کے راستے کو اپنی مرضی سے اپناتا ہے اور کون اس سے ہٹ جاتا ہے۔اگر ہر شخص کو براہِ راست وحی دی جاتی، تو زندگی ایمان کا حقیقی امتحان نہ ہوتی۔اصل آزمائش یہ ہے کہ انسان اپنی عقل اور فہم کو استعمال کرے اور اللہ کی نشانیاں پہچانے، نہ کہ وہ خود اللہ کی طرف سے براہ راست خطاب کا انتظار کرے، جو کسی کوشش کے بغیر یقین پیدا کر دیتا اور ایمان بے معنی ہو جاتا۔
اگرچہ انبیاء کو براہِ راست وحی ملی، لیکن یہ انہیں زندگی کی آزمائشوں سے مستثنیٰ نہیں کرتی تھی، کیونکہ نبوت کے ساتھ کئی مشکلات اور امتحانات بھی آتے تھے۔
آخری نبی
انبیا کو مخصوص اقوام کے لیے بھیجا گیا تھا، اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کے پیغامات یا تو کھو گئے یا بگاڑ دیے گئے۔ تاہم، نبی محمدﷺ کو کسی خاص قوم کے لیے نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے بھیجا گیا، اور ان کا پیغام قرآن اور سنت کی شکل میں محفوظ کر دیا گیا۔
چونکہ قرآن اور سنت محفوظ اور آسانی سے دستیاب ہیں، اس لیے کسی اور نبی کی ضرورت نہیں۔
قرآن اللہ کا کلام ہے، جو ہر قسم کی تحریف، غلطیوں اور تضادات سے پاک ہے۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جو "تمام انسانوں کے لیے ہدایت ہے… اور حق و باطل میں فرق کرنے والی ہے۔" (القرآن 2:185)
سنت نبی محمدﷺ کے اقوال اور اعمال کا مجموعہ ہے، جسے ان کے صحابہ اور ان کے شاگردوں نے محفوظ کیا۔ ان کے ہزاروں اقوال کو سخت جانچ کے بعد محفوظ کیا گیا، جس کی وجہ سے نبی محمدﷺ کی زندگی کی پیروی کرنا بہت آسان ہے۔
نبی محمدﷺ کا پیغام پچھلے انبیا کی تعلیمات سے مکمل ہم آہنگ ہے اور ان کے پیغام کی تصدیق کرتا ہے۔
نبی محمدﷺ تمام انسانوں کے لیے آخری نبی ہیں، ان کے زمانے سے لے کر قیامت تک، تمام موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے۔ وہ دیانتدار، عادل، رحمدل، مہربان، سچائی پر قائم اور بہادر انسان کی کامل مثال تھے۔ وہ، دوسرے انبیا کی طرح، کسی بھی برے وصف سے پاک تھے اور صرف اللہ کی رضا کے لیے کوشاں رہے۔
نتیجہ
"بے شک تمہارے لیے اللہ کے رسول (محمدﷺ) میں بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتا ہے۔" (القرآن 33:21)
انبیا کو اللہ نے اپنی رحمت کے طور پر بھیجا تاکہ وہ اس کا پیغام پہنچائیں اور لوگوں کو نیک زندگی گزارنے کا طریقہ سکھائیں۔ وہ بہترین صفات کے حامل تھے اور ان کی پیروی اور اطاعت لازم ہے۔
کسی نبی کی پیروی کرنا اللہ کی اطاعت ہے اور کسی نبی کا انکار کرنا اللہ کی نافرمانی ہے۔ نبی محمدﷺ آخری نبی ہیں، اس لیے اللہ کی ہدایت ان کے ذریعے مکمل کر دی گئی، اور ہماری نجات اللہ اور اس کے آخری نبی کی اطاعت میں ہے۔
